GB NEWS ONE

A NETWORK OF GILGIT BALTISTSN

GB NEWS ONE

Breaking

Search

عورتوں کے حقوق

عورتوں کے حقوق

    از قلم: مہر علی شہاب    

                                                                                                           آج کل گلگت بلتستان میں مختلف نجی ادارے عورتوں کو ان کے حقوق دلانے کے بجاۓ ان کو بہکانے میں سر گرم عمل ھیں. عورت کو مردکے شانہ بشانہ چلنے میں ان کی مدد کررہے ھیں. ان کو سٹیج پہ رقص سے لے کر ڈول بجانا سکھایا جارہا ھے. ان کی عزت اور جن حقوق سے عورت محروم ھے ان پہ بات کرنے کیلے تیار نہیں . اگر ان لوگوں سے پوچھا جاۓ اپنی جو بہنیں ھیں ان کو جائداد سے حصہ کتنا دیا. تو کہنگے میں نے بہن کو رباب, ڈول گٹار, دمبک دف سب کچھ بجانا بھی سکھایا ھے اور خرید کے بھی دیے ھیں. خدارا اپنی بہن یا بیٹی کو مراسی کی تربیت نہ دیں بلکہ اس کو تعلیم, اور عزت دیں. اس ہاتھ میں قلم اور کتاب دیں. اس کو زندگی کے مشکلات سے سامنا کرنا سکھائیں. زندگی میں آگے بڑھنے کا حوصلہ دیں نہ کہ دوسروں کیلے عیاشی کے سامان بنائیں.اس کے لیے آرامدہ زندگی گزارنے کے سارے وسائل میسر کریں. جتنا فکر بیٹے کیلے کرتے ھیں اتنا بیٹی کیلے بھی کریں. بیٹا اور بیٹی میں کوئی فرق نہ کریں. اپنی بٹی کو وہ نہ بنائیں جو بیہودہ ھوکے اشتہارات کی زینت بنتی ھیں.

ان لڑکیوں کو بیوقوف بنایا جارہا ھے. کچھ خواتین بھی یہ سوچ کے مست ھیں کہ یہ چیزیں بجانے, سٹیج کی زینت بن کے ناچنے سے اور مرد کیلے عیاشی کے سامان بننے سے عورت مرد کے برابر ھوتی ھیں. بیٹا سنو یہ آپ کے حقوق کے منافی ھے. وگر نہ آپ کی مرضی اور سنو بیٹا بس یہی بجاتے رہنا اس کے پیچھے عورت کی ترقی ھے. اس کو بجانے سے عورت مرد کے برابر ھوتی ھے. اسی میں عورت کی ترقی و خوشحالی مضمر ھے. دنیا کے جتنے بھی معاشروں میں عورت نے ترقی کی ھے وہ دن رات ایک کرکے یہی چیز بجاتی رہی ھے تب جاکے چاند پر پہنچی اور سائنس کے میدان میں اپنا لوہا منوایا. عورت کے حقوق تب تک نہیں ملتے یا مرد کے برابر تب تک نہیں ھوتی جب تک دل و جان سے یہ چیزیں نہ بجائیں  

GB NEWS ONE

GB NEWS ONE

Churkah

Churkah

Shigar

Shigar

GB

GB

عورتوں کے حقوق

عورتوں کے حقوق

    از قلم: مہر علی شہاب    

                                                                                                           آج کل گلگت بلتستان میں مختلف نجی ادارے عورتوں کو ان کے حقوق دلانے کے بجاۓ ان کو بہکانے میں سر گرم عمل ھیں. عورت کو مردکے شانہ بشانہ چلنے میں ان کی مدد کررہے ھیں. ان کو سٹیج پہ رقص سے لے کر ڈول بجانا سکھایا جارہا ھے. ان کی عزت اور جن حقوق سے عورت محروم ھے ان پہ بات کرنے کیلے تیار نہیں . اگر ان لوگوں سے پوچھا جاۓ اپنی جو بہنیں ھیں ان کو جائداد سے حصہ کتنا دیا. تو کہنگے میں نے بہن کو رباب, ڈول گٹار, دمبک دف سب کچھ بجانا بھی سکھایا ھے اور خرید کے بھی دیے ھیں. خدارا اپنی بہن یا بیٹی کو مراسی کی تربیت نہ دیں بلکہ اس کو تعلیم, اور عزت دیں. اس ہاتھ میں قلم اور کتاب دیں. اس کو زندگی کے مشکلات سے سامنا کرنا سکھائیں. زندگی میں آگے بڑھنے کا حوصلہ دیں نہ کہ دوسروں کیلے عیاشی کے سامان بنائیں.اس کے لیے آرامدہ زندگی گزارنے کے سارے وسائل میسر کریں. جتنا فکر بیٹے کیلے کرتے ھیں اتنا بیٹی کیلے بھی کریں. بیٹا اور بیٹی میں کوئی فرق نہ کریں. اپنی بٹی کو وہ نہ بنائیں جو بیہودہ ھوکے اشتہارات کی زینت بنتی ھیں.

ان لڑکیوں کو بیوقوف بنایا جارہا ھے. کچھ خواتین بھی یہ سوچ کے مست ھیں کہ یہ چیزیں بجانے, سٹیج کی زینت بن کے ناچنے سے اور مرد کیلے عیاشی کے سامان بننے سے عورت مرد کے برابر ھوتی ھیں. بیٹا سنو یہ آپ کے حقوق کے منافی ھے. وگر نہ آپ کی مرضی اور سنو بیٹا بس یہی بجاتے رہنا اس کے پیچھے عورت کی ترقی ھے. اس کو بجانے سے عورت مرد کے برابر ھوتی ھے. اسی میں عورت کی ترقی و خوشحالی مضمر ھے. دنیا کے جتنے بھی معاشروں میں عورت نے ترقی کی ھے وہ دن رات ایک کرکے یہی چیز بجاتی رہی ھے تب جاکے چاند پر پہنچی اور سائنس کے میدان میں اپنا لوہا منوایا. عورت کے حقوق تب تک نہیں ملتے یا مرد کے برابر تب تک نہیں ھوتی جب تک دل و جان سے یہ چیزیں نہ بجائیں  

Post Top Ad

Your Ad Spot

Pages